plan crashed into the Baltic Sea

دوران پرواز پائلٹ بے ہوش؛ مسلسل پرواز کرتا طیارہ ایندھن ختم ہونے پر گرکر تباہ

eAwaz آس پاس

برلن: اسپین سے جرمنی جانے والا نجی طیارہ بے ترتیب اُڑان بھرتے ہوئے بالٹک کے سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا جب کہ کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد سے جہاز آٹو موڈ پر تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پرائیوٹ طیارے نے جنوبی اسپین سے جرمنی کے شہر کولون کے لیے پائلٹ، ایک مرد، ایک عورت اور ایک بچے ساتھ پرواز بھری تھی تاہم تھوڑی دیر بعد ہی طیارے میں کیبن پریشر کے مسائل پیدا ہوگئے اور کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

رابطہ منقطع ہونے کے بعد سے طیارہ مشکوک انداز میں بے ترتیب اُڑان اُڑ رہا تھا اور اپنی منزل سے بھٹک گیا تھا اور ایندھن ختم ہونے تک مسلسل پرواز کرتے ہوئے بالٹک پہنچا اور سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔
سمندر میں گرنے سے قبل جہاز کی رفتار تبدیل اور وہ نہایت نچلی پرواز کر رہا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارے کا ایندھن ختم ہوگیا تھا۔ کاک پٹ میں پائلٹ نہیں تھا اور پائلٹ کے ساتھ والی کرسی پر ایک تکیہ رکھا تھا۔

فلائٹ ریڈار 24 کی ویب سائٹ کے مطابق طیارے کو دو مرتبہ کولون اور پیرس کے درمیانی میں مڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس کے بعد بحیرہ بالٹک کے اوپر سے نکلتے ہوئے سویڈش جزیرے گوٹ لینڈ کے قریب سے گزرا۔

طیارے کے تباہ ہونے کی خبر پر حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کے جنگی طیاروں کو روانہ کیا گیا تاہم انہیں کسی بھی زندہ شخص کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

ادھر سویڈش سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے سربراہ لارس اینٹونسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کے بعد نیٹو جنگی طیاروں جن میں جرمنی، ڈنمارک اور سویڈن کے طیارے شامل تھے حادثے کے شکار جہاز کے عملے سے بصری رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق ایوی ایشن سیفٹی کے ماہر ہنس کجال نے سویڈش نیوز ایجنسی ٹی ٹی کو بتایا کہ کیبن پریشر کے مسائل کی وجہ سے طیارے کے تمام مسافر اپنا ہوش کھو بیٹھے ہوں۔ ایسا زیادہ اونچائی پر پرواز کرتے چھوٹے طیاروں میں بہت تیزی سے ہوسکتا ہے۔

ایوی ایشن ماہر لارس اینٹونسن کا بھی کہنا تھا کہ دوران پرواز طیارے میں موجود تمام افراد بے ہوش ہوجانے کے باعث حادثہ پیش آنے کا امکان زیادہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معقول وجہ سمجھ نہیں آتی۔

اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ طیارہ حادثہ پائلٹ سمیت تمام مسافروں کے بے ہوش ہوجانے کے باعث پیش آیا تو یہ اس نوعیت کا چھٹا موقع ہوگا۔

چار بار ایسا چھوٹے طیاروں اور ایک بار کمرشل جیٹ طیارے کے ساتھ پیش آچکا ہے جس میں 121 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔