Foreign Minister Bilawal

بھارت سے رابطے منقطع کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں، وزیر خارجہ

eAwaz پاکستان

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دیگر ممالک خصوصاً بھارت اور امریکہ کے ساتھ تجارت اور روابط کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق رواں سال اپریل میں وزیر خارجہ کا دفتر سنبھالنے کے بعد سے اپنی پہلی اہم خارجہ پالیسی تقریر میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے اہم تعلقات پر بات کی اور ماضی کی خارجہ پالیسی کے نوعیت پر سوال اٹھایا۔

حکومتی مالی اعانت سے چلنے والے تھنک ٹینک، انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مخلوط حکومت کو ایک بین الاقوامی طور پر تنہائی کا شکار اور بین الاقوامی سطح پر روابط سے منقطع ملک ملا۔

انہوں نے بھارت اور امریکا کی ایسے ممالک کے طور پر نشنادہی کی جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مسائل کا شکار رہے ہیں۔

اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات رواں سال کے شروع میں اس وقت مزید متاثر ہوئے جب سابق حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے امریکا پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ اس کی حکومت کو برطرف کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کام کررہا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے برطرف ہونے کے بعد ایک جارحانہ مہم چلائی اور ’غیر ملکی طاقتوں کے غلاموں‘ سے آزادی کا مطالبہ کیا، عمران خان کے اس بیانیے سے ملک میں امریکا کی مخالفت میں اضافہ ہوا۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کیا اور انہیں فوڈ سیکیورٹی کانفرنس میں مدعو کیا جہاں دونوں کی ملاقات بھی ہوئی تھی۔

البتہ’حکومت کی تبدیلی‘ کے الزامات دو طرفہ تعلقات پر طویل مدتی اثرات مرتب کررہے ہیں۔

بھارتی حکمران جماعت کی جانب سے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کرنے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات کم کردیے تھے۔

جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پیش آئے واقعات اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہندو بالادستی کے اقدامات نے دوبارہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں رکاوٹیں قائم کردی ہیں۔

اسلام آباد کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانا چاہتا ہے لیکن یہ بھارت پر ہے کہ وہ ایسا کرنے کے لیے سازگار ماحول قائم کرے۔

اپنی تقریر میں وزیر خارجہ نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات پر زیادہ زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اقتصادی سفارت کاری اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں پر توجہ دی جائے۔

نیوز سورس ڈان نیوز